Most Popular
This Week
Latest Stories
What is new?
Comments
What They says?
تازہ ترین
ads
اقتباسات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اقتباسات, تازہ ترین
جناب شیخ سعدی علیہ رحمۃ بتاتے ہیں کہ انہوں نے راستے میں ایک جوان کو دیکھا، اس کی پیچھے پیچھے اس کی بکری بھی بھاگتی آ رہی تھی تو شیخ سعدی نے کہا کہ یہ بکری جو تیرے پیچھے پیچھے آتی ہے اس کی وجہ کیا یہ رسی ہے جس سے یہ بندھی ہوئی ہے۔
اس پر اس جوان نے اس بکری کے پٹے کو کھول دیا تو بکری ادھر ادھر دائیں بائیں دوڑنے لگی۔ وہ اسی طرح راستے میں اس کے پیچھے آتی رہی کیونکہ بکری نے جوان کے ہاتھ سے سر سبز چارہ کھایا تھا، پھر جب وہ سیر اور کھیل کود سے واپس ہوا اور مجھے دیکھا تو بولا اے صاحب ، اس جانور کو یہ رسی میرے ساتھ لے کر نہیں چلتی ، بلکہ اس کی گردن میں میرے احسان کا پٹہ بندھا ہوا ہے۔
اس پر اس جوان نے اس بکری کے پٹے کو کھول دیا تو بکری ادھر ادھر دائیں بائیں دوڑنے لگی۔ وہ اسی طرح راستے میں اس کے پیچھے آتی رہی کیونکہ بکری نے جوان کے ہاتھ سے سر سبز چارہ کھایا تھا، پھر جب وہ سیر اور کھیل کود سے واپس ہوا اور مجھے دیکھا تو بولا اے صاحب ، اس جانور کو یہ رسی میرے ساتھ لے کر نہیں چلتی ، بلکہ اس کی گردن میں میرے احسان کا پٹہ بندھا ہوا ہے۔
ہاتھی نے جو مہربانی اپنے فیل بان میں دیکھی ہے اس وجہ سے وہ مستی میں بھی اس پر حملہ نہیں کرتا۔ لہذا اے نیک مرد!برے لوگوں پر بھی نوازش اور مہربانی ہی کر ، کیونکہ ایک کتا بھی جس نے تیری روٹی کھائی ہے وہ تجھ سے وفا داری کرتا ہے۔
(شیخ سعدی شیرازی کی "بوستان" سے اقتباس)
اقتباسات, تاریخ, تازہ ترین
(مسعود احمد برکاتی)
کہتے ہیں ایک بار شیخ جنید بغدادی سفر کے ارادے سے بغداد روانہ ہوئے۔ حضرت شیخ کے کچھ مرید ساتھ تھے۔ شیخ نے مریدوں سے پوچھا: "تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟"
لوگوں نے کہا: " حضرت! وہ تو ایک دیوانہ ہے۔ آپ اس سے مل کر کیا کریں گے؟"
شیخ نے جواب دیا: "ذرا بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے۔"
مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل اپنے لیے سعادت سمجھی۔ تھوڑی جستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ شیخ، بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔ شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا: "تم کون ہو؟"
"میں ہوں جنید بغدادی۔"
"تو اے ابوالقاسم! تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟"
"جی ہاں، کوشش تو کرتا ہوں۔"
"اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟"
"کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔"
پھر دوبارہ کہا: "جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔"
یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔ پھر ان سے کہا: "تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا۔ شیخ کے مریدوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔"
"ہاں! دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لیے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔ اس سے سچی بات سننا چاہیے۔ آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔ مجھے اس سے کام ہے۔"
بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ شیخ بغدادی اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا: "کون ہو تم؟"
"میں ہوں بغدادی شیخ! جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔"
بہلول نے کہا: "خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگو کا طریقہ جانتے ہی ہوں گے؟"
شیخ نے جواب دیا: "جی ہاں جانتا تو ہوں۔"
"تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟"
"میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلق خدا کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہر ی علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔" اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سے متعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔
بہلول نے کہا: "کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔ تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔" پھر شیخ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔ مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟"
"بھئی! مجھے تو اس سے کام ہے۔ تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔" اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا۔ بہلول نے مڑ کر دیکھا اور کہا: "تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں ۔ سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟"
شیخ نے کہا: "جی ہاں! معلوم ہے۔"
"اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟"
"جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔" یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے وہ آداب بیان کیے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔
بہلول نے کہا: "معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: "اے حضرت! میں نہیں جانتا ۔ اللہ کے واسطے تم مجھے سکھا دو۔"
کچھ دیر بعد بہلول نے کہا: "میاں! یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو۔ کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہیے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش (ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کیے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کے بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔"
شیخ جنید نے بےساختہ کہا: "جزاک اللہ خیرأً۔" (اللہ تمہارا بھلا کرے)
پھر بہلول نے بتایا: "گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اگر کوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی، تمہارے لیے وبال بن جائے گی، اس لیے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے۔"
پھر سونے کے متعلق بتایا: "اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمہارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔"
بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔ شیخ جنید کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے۔
حضرت جنید اور بہلول کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے۔
اقتباسات, تازہ ترین
ایک دن میں نے کھیتوں کے کاٹھ کے پتلے سے کہا۔۔۔ تم اس کھیت میں کھڑے اکتا گئے ہو گے۔۔۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔۔ "جانوروں کو ڈرانے کی لذت اس قدر عمیق اور دیرپا ہے کہ میں اس سے کبھی نہیں اکتاتا۔۔۔۔" میں نے ایک منٹ سوچ کر کہا۔۔۔۔ "یہ سچ ہے کیونکہ میں نے بھی اس مسرت کا مزاچکھا ہے۔"
اس نے کہا۔۔۔۔ "ہاں وہی لوگ جن کے جسم میں گھاس پوس بھری ہو اس لذت سے آشنا ہو سکتے ہیں۔۔۔۔"
یہ سن کر میں وہاں سے چل دیا لیکن مجھے یہ خبر نہیں کہ اس نے میری تعریف کی یا میرا مضحکہ اڑایا۔
ایک برس گزر گیا اور اس مدت میں وہ کاٹھ کا پتلا ایک فلاسفر بن چکا تھا۔ اور جب میں دوبارہ اس کے پاس سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ اس کے سر پر دو کوؤں نے گھونسلا بنا رکھا ہے۔
(حکایتِ خلیل جبران)
اقتباسات, تازہ ترین
کسان ہل جوتتا ہے، کھاد ملاتا ہے، مٹی نرم کرتا ہے، بیج ڈالتا ہے، پانی دیتا ہے اور پھر پودے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ پھولوں کو پودوں سے زبردستی کھینچ کر نہیں نکالا جا سکتا۔ اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ اورجرأت کے ساتھ۔۔۔۔۔ اور محبت کے ساتھ !!!
اللہ کی محبت کا بیج بھی ایسے ہی بویا جاتا ہے اور پھر اسی طرح روحانی مراد کا بھی انتظار کیا جاتا ہے۔ خاموشی سے محبت سے، جرأت سے! جو کوئی بھی اس میں بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ مراد حاصل نہیں کرتا۔ بے صبری بار آوری کے لیے مناسب کھاد نہیں۔
ابدی پھولوں کے حصول کے لیے ابدی انتظار کی ضرورت ہے اور جو ابدی انتظار کا تہیہ کر لیتا اس کے لیے فٹ سے بھی دروازہ کھل جایا کرتا ہے۔ ہمارے اندر، اندر کی طاقت موجود ہے اور کافی مقدار میں موجود ہے۔ لیکن ہم بے صبری کے ساتھ اس کو گنوا دیتے ہیں۔
گدلے جوہڑ کے اندر اپنے چھکڑوں کو تیزے سے ہانکتے ہوئے گذارنا اور بھی گدلاہٹ پیدا کرتا ہے۔ آرام سے چلو گے تو سب گار بیٹھ جائے گی۔۔۔۔۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم محض شاہد بنیں۔ دیکھنے والے بنیں۔ ذہن خودبخود پاکیزہ ہو جائے گا۔ ہمیں ذہن کو پاکیزہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ساری گڑبڑ اس ذہن کو پاکیزہ بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ آرام سے کنارے پر بیٹھ کر
نظارہ کریں اور پھر دیکھیں کیا نظارہ ابھرتا ہے۔
(اشفاق احمد کی کتاب "بابا صاحبا" سے اقتباس)
اقتباسات, تازہ ترین
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو والدین کہلاتے ہیں۔ بدقسمت ہیں تو وہ بےچارے جو قدرت کی طرف سے اس ڈیوٹی پر مقرر ہوئے ہیں کہ جب کسی عزیز یا دوست کے بچے کو دیکھیں تو ایسے موقع پر ان کے ذاتی جذبات کچھ ہی کیوں نہ ہوں وہ یہ ضرور کہیں کہ کیا پیارا بچہ ہے۔ میرے ساتھ کے گھر ایک مرزا صاحب رہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے چھ بچوں کے والد ہیں۔ بڑے بچے کی عمر نو سال ہے۔ بہت شریف آدمی ہیں۔ ان کے بچے بھی بےچارے بہت ہی بےزبان ہیں۔ جب ان میں سے ایک روتا ہے تو باقی کے سب چپکے بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ جب وہ روتے روتے تھک جاتا ہے تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہوجاتا ہے۔ وہ ہار جاتا ہے تو تیسرے کی باری آتی ہے، رات کی دیوٹی والے بچے الگ ہیں۔ ان کا سُر ذرا باریک ہے۔ آپ انگلیاں چٹخوا کر، سر کی کھال میں تیل جھسوا کر، کانوں میں روئی دے کر، لحاف میں سر لپیٹ کر سوئیے، ایک لمحے کے اندر آپ کو جگا کے اُٹھا کے بٹھا نہ دیں تو میرا ذمہ۔ ان ہی مرزا صاحب کے گھر جب میں جاتا ہوں تو ایک ایک بچہ کو بلا کر پیار کرتا ہوں۔ اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں۔ کئی دفعہ دل میں آیا مرزا صاحب سے کہوں حضرت آپ کی ان نغمہ سرائیوں نے میری زندگی حرام کر دی ہے، نہ دن کو کام کرسکتا ہوں نہ رات کو سوسکتا ہوں۔ لیکن یہ میں کہنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ان کا ایک بچہ کمرے میں آجاتا ہے اور مرزا صاحب ایک والدانہ تبسم سے کہتے ہیں۔ اختر بیٹا!ان کوسلام کرو، سلام کرو بیٹا، ان کا نام اختر ہے۔ صاحب بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، کبھی ماں کو دق نہیں کرتا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ وہی نالائق ہے جو رات کو دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کے روتا ہے۔ مرزا صاحب قبلہ تو شاید اپنے خراٹوں کے زور شور میں کچھ نہیں سنتے، بدبختی ہماری ہوتی ہے لیکن کہتا یہی ہوں کہ ”یہاں آؤ بیٹا“ گٹھنے پر بٹھا کر اس کا منہ بھی چومتا ہوں۔ خدا جانے آج کل کے بچے کس قسم کے بچے ہیں۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم بقرعید کو تھوڑا سا رولیا کرتے تھے او رکبھی کبھار کوئی مہمان آنکلا تو نمونے کے طور پر تھوڑی سی ضد کرلی، کیونکہ ایسے موقعہ پر ضد کارآمد ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ کہ چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہیں۔ ایسی مشق ہم نے کبھی بہم نہ پہنچائی تھی۔
(پطرس بخاری کے مضمون "بچے" سے اقتباس)
اقتباسات, تازہ ترین
مجھے معلوم ہے آپ کو سکون اور مسرت کی تلاش ہے- لیکن سکون تلاش سے کس طرح
مل سکتا ہے- سکون اور آسانی تو صرف ان کو مل سکتی ہے جو آسانیاں تقسیم
کرتے ہیں، جو مسرتیں بکھیرتے پھرتے ہیں- اگر آپ کو سکون کی تلاش ہے تو
لوگوں میں سکون تقسیم کرو، تمھارے بورے بھرنے لگیں گے...........طلب بند
کر دو .........!
یہ دولت صرف دینے سے بڑھتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرتے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے- الله سائیں کے طریق نرالے ہیں- سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا، بادشاہ کی طرح جانا، جھومتے جھامتے، دیتے بکھیرتے ................ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور بھکاری کون ہوتا ہے- وہ جو مانگے، جو صدا دے، تقاضا کرے اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے- لٹاتا جائے پس جس راہ سے بھی گزرو بادشاہوں کی طرح گزرو شہنشاہوں کی طرح گزرو .......... دیتے جاؤ دیتے جاؤ- غرض و غایت کے بغیر- شرط شرائط کے بغیر-
(اشفاق احمد کی "زاویہ ٣" سے اقتباس)
یہ دولت صرف دینے سے بڑھتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرتے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے- الله سائیں کے طریق نرالے ہیں- سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا، بادشاہ کی طرح جانا، جھومتے جھامتے، دیتے بکھیرتے ................ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور بھکاری کون ہوتا ہے- وہ جو مانگے، جو صدا دے، تقاضا کرے اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے- لٹاتا جائے پس جس راہ سے بھی گزرو بادشاہوں کی طرح گزرو شہنشاہوں کی طرح گزرو .......... دیتے جاؤ دیتے جاؤ- غرض و غایت کے بغیر- شرط شرائط کے بغیر-
(اشفاق احمد کی "زاویہ ٣" سے اقتباس)
اقتباسات, تازہ ترین
جاننا چاہیے کہ ذہن وہ نوکر ہے، جس نے اپنے مالک کے گھر پر اس کی غیر موجودگی میں قبضہ کر رکھا ہے۔
کیا یہ نوکر چاہے گا کہ اس کا مالک واپس آجائے!
وہ اپنے مالک کی واپسی بالکل پسند نہیں کرے گا۔ ایسے ایسے حیلے، اور ایسی ایسی ترکیبیں سوچتا رہے گا کہ گھر کا مالک گھر واپس نہ آسکے۔ اس کے بہانوں اور ترکیبوں میں سب سے بڑی ترکیب یہ ہو گی کہ خود ہی کو گھر کا مالک سمجھنے لگ جائے۔ اور خود ہی سب کو بتاتا پھرے کہ وہی بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ چنانچہ ذہن کبھی بھی شعور کو اندر داخل ہونے نہیں دے گا۔ جو اصل مالک خانہ ہے۔ لیکن اگر شعور کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں اور حقدار کو اس کا حق واپس دلانا چاہتے ہیں۔ تو پھر دماغ کو ریلیکس کرنے کا طریق اپنا لیں، اس کو کارکردگی اور عمل سے نکالیں۔ اسے خالی کر دیں، اسے کھلا چھوڑ یں۔ اسے نیوٹرل کلچ میں ڈال دیں۔ اس کی موت واقع ہونے لگے گی۔ اور جونہی اس کی موت واقع ہوگی گھر کا قبضہ اس کے مالک کو مل جائے گا۔
(اشفاق احمد کی کتاب "زاویہ 3" سے اقتباس)
(اشفاق احمد کی کتاب "زاویہ 3" سے اقتباس)







