آمدورفت

محفوظات

Budaya

Wisata

Linear

Budaya

Daya

Kuliner

Liner

تبصرے

kota

Free hosting
    • Latest Stories

      What is new?

    • Comments

      What They says?

    ,



     اگر آپ قرآن کریم میں بیان کئے گئے تمام درختوں اور پودوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے لئے دبئی کا رخ کریں جہاں مقامی انتظامیہ ایک ایسا وسیع پارک تعمیر کر رہی ہے جس میں قرآن کریم ميں بیان کئے گئے 54 میں سے 51 درختوں اور پودوں کو لگایا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق دبئی کے پروجیکٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرجنرل محمد نور مشروم کا کہنا تھا کہ قرآن میں 54 درختوں اور پودوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں انار، زیتون، تربوز، کیلے، گندم ، پیاز ، املی، انگور، نیاز بو ،کددو اور دیگر شامل ہیں، 158 ایکٹر وسیع رقبے پر مشتمل پارک میں اب تک 31 درختوں اور پودوں کو لگایا جا چکا ہے جب کہ بقیہ 20 کو تیسرے مرحلے ميں لگایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک میں بیان کئے گئے 3 پودے اس وقت دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ۔

    محمد نور مشروم نے کہا کہ پارک میں ایک ایئرکنڈیشنڈ سرنگ بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس میں قرآن پاک کے کرشمے اور دیگر بیان کئے گئے واقعات سے متعلق بھی آگاہی دی جائے گی جب کہ پارک کے درمیان میں ایک جیل بھی بنائی جا رہی ہے۔

    ,


    اخبار میں ایک اشتہار دیکھ رھا تھا... "ہم اپنے بیٹے کو بوجہ نافرمانی، گستاخی، بدچلنی و آوارہ گردی اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کرتے ہیں... ہم اس کے کسی نفع نقصان کے ذمہ دار نہیں ہونگے... ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا... "

    میرا اللہ کتنا اچھا ہے...

    میں بدچلن ہوں، آوارہ ہوں، گستاخ ہوں، نافرمان ہوں لیکن میرا اللہ کبھی مجھے اپنی نعمتوں سے عاق نہیں کرتا، مجھ سے قطع تعلقی کا اشتہار نہیں نکالتا، میری روٹی روزی سے غافل نہیں ہوتا، لوگوں کو بتا کر مجھے ذلیل و رسوا نہیں کرتا... خاموشی سے دروازہ کھلا چھوڑ کر میرے لوٹنے کا دن رات انتظار کرتا ہے...

    میرا اللہ کتنا اچھا ہے...

    اور جب کبھی اپنی شامت اعمال کے نتیجے میں کسی تکلیف میں مبتلا ھو کر اسے پکارتا ہوں تو میری سن کر مجھے ڈھارس بھی دیتا ہے اور اس تکلیف سے مجھے نکالنے کی سبیل بھی کرتا ہے جس میں خود اپنی غلطی سے پھنس جاتا ہوں.. پھر کبھی کسی رات پشیمانی سے مجبور ھوکر آنسو بہاتے ہوئے اس سے شرمسار ہوتا ہوں تو وہ ماں سے بھی زیادہ تڑپ کے ساتھ اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے...

    میرا اللہ کتنا اچھا ہے...!!

    ,


    ایک بارشاہ ایک عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا. غلام نے کبھی دریا نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کشتی میں سوار ہوا تھا. پانی سے ڈر کر اُس نے رونا دھونا شروع کردیا. بادشاہ کو غلام کا رونا دوھونا ناگوار گزرا. کشتی میں ایک دانا شخص سوار تھا جو بادشاہ سے بولا آپ حکم دیں تو میں اسے خاموش کراوا سکتا ہوں. بادشاہ نے کہا بڑی مہربانی ہوگی. دانا کے کہنے پر لوگوں نے غلام کواُٹھا کر دریا میں پھینک دیا. چند غوطے کھانے کے بعد غلام کو دریا سے با ہر نکال لیا گیا. باہر آنے کے بعد وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور اُس کو سکون ہو گیا. بادشاہ کو تعجب ہوا اور دانا سے دریافت کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی تو جواب ملا کہ غلام نے اس سے قبل ڈوبنے کی تکلیف نہیں اُٹھا ئی تھی اور کشتی میں محفوظ رہنے کی قدر سے نا واقف تھا. آرام کی قدر وہی کرتا ہے جو کسی مصیبت میں پھنس جائے.

    (حکایت ِ سعدی)

    ,


    ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا:

    کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟

    بولی: آپ کا خطاب کس سے ہے؟ بتی سے ، تیل سے ، ٹین کی ڈبیہ سے ، کانچ کی چمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔ میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔

    لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ اگر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کرلیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔

    میں حیران ہوگیا کہ اگر لالٹین کے کسی جزو کو لالٹین کہوں تو یہ درست نہ ہوگا اور اگر تمام اجزاء کو ملا کر لالٹین کہوں تب بھی موزوں نہ ٹھہرے گا، کیونکہ لالٹین کا دم روشنی سے ہے۔ روشنی نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ مگر دن کے وقت جب لالٹین روشن نہیں ہوتی ، اس وقت بھی اس کا نام لالٹین ہی رہتا ہے۔ تو پھر کس کو لالٹین کہوں۔ جب میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ، تو مجبوراً لالٹین ہی سے پوچھا:

    میں خاکی انسان نہیں جانتا کہ تیرے کس جزو کو مخاطب کروں اور کس کو لالٹین سمجھوں۔

    یہ سن کر لالٹین کی روشنی لرزی ، ہلی، کپکپائی۔

    گویا وہ میری ناآشنائی و نادانی پر بےاختیار کھلکھلا کر ہنسی اور کہا:

    "اے نورِ خدا کے چراغ ، آدم زاد ! سن، لالٹین اس روشنی کا نام ہے جو بتی کے سر پر رات بھر آرا چلایا کرتی ہے۔ لالٹین اس شعلے کو کہتے ہیں جس کی خوراک تیل ہے اور جو اپنے دشمن تاریکی سے تمام شب لڑتا بھڑتا رہتا ہے۔ دن کے وقت اگرچہ یہ روشنی موجود نہیں ہوتی لیکن کانچ اور ٹین کا پنجرہ رات بھر ، اس کی ہم نشینی کے سبب لالٹین کہلانے لگتا ہے۔"

    "تیرے اندر بھی ایک روشنی ہے۔ اگر تو اس کی قدر جانے اور اس کو پہچانے تو سب لوگ تجھ کو روشنی کہنے لگیں گے ، خاک کا پتلا کوئی نہیں کہے گا۔”

    دیکھو ،خدا کے ولیوں کو جو اپنے پروودگار کی نزدیکی و قربت کی خواہش میں تمام رات کھڑے کھڑے گزار دیتے تھے، تو دن کے وقت ان کو نورِ خدا سے علیحدہ نہیں سمجھا جاتا رہا ، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی ان کی وہی شان رہتی ہے۔

    تو پہلے چمنی صاف کر۔ یعنی لباسِ ظاہری کو گندگی اور نجاست سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کے بعد ڈبیا میں صاف تیل بھر۔ یعنی حلال کی روزی کھا، اور پھر دوسرے کے گھر کے اندھیرے کے لئے اپنی ہستی کو جلا جلا کر مٹا دے۔ اس وقت تو بھی قندیلِ حقیقت اور فانوسِ ربانی بن جائے گا۔

    (از: خواجہ حسن نظامی)

    ,



    ساڑھے پانچ فٹ کے ایک انسان کو”عقل“ نامی ایک ایسے 'ڈیوائس' کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے جس کے استعمال سے وہ نہ صرف زندگی کے ہر نشیب و فراز سے واقف ہو جاتا ہے بلکہ سمندروں کی گہرائیوں، پہاڑوں کی اونچائیوں، ہواؤں کے بہاؤ کو ناپنے لگتا ہے اور اِن کی حسبِ کیفیت اِن سے اپنے رویوں کا تعین کرتا ہے اور اپنی زندگی کو محورِ تعیش عطا کر کے اپنی عقل پر اِترانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ رفتہ رفتہ اِسی عقل کو، عقل دینے والے کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں پر لگا دیتا ہے۔ لیکن اُس کی عقل کی حقیقت تب کھلتی ہے جب وہ اپنے اختیارات کا حدود آشنا ہو جاتا ہے اور یہ مقام وہ ہوتا ہے جہاں سے پلٹنا اُس کے بس کی بات نہیں ہوتی یعنی وہ 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' پر پہنچ جاتا ہے۔ اِس لیے کہ سمندر بپھر جاتے ہیں، پہاڑ آتش فشاں بن کر لاوا اُگلنے لگتے ہیں، ہوائیں آندھیوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور بگولے اِنسانی عقل ہی کو نہیں خود انسان ہی کو اُڑا لے جانے کے لیے تیار رہتے ہیں، پاؤں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے۔ اُس کی قوت و حشمت اور قابلیت و صلاحیت بے حقیقت ہو جاتی ہے۔ تب اُسے اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے، وہ سارا شرک بھول کر ایک ہی خالق و مالک کے آگے جھکنے پر آمادہ ہوتا ہے اور اِسی بحران میں وہ شرک کو بھولنا چاہتا ہے اور خلوص کے ساتھ صرف اپنے خالق کو پکارنے لگتا ہے۔ لیکن بقول شاعر;

                                      جب زمین پھٹتی ہے آتا ہے سمندر میں اُبال
                                      تب تو فرعون بھی اقرارِ خدا کرتے ہیں
    (از: عزیز بلگامی)


    علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم ہلائے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔

    (از: شفیق الرحمان)



    روایت ہے کہ مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے۔ایک دکان پر جا کر رک گئے۔دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،"عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے،چھوڑو پیسے اور جاؤ۔"
    مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے۔دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
    "مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟"
    مولانا رومی نے جواب دیا،  "میں اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح کے دانے گن گن کر گراتا ہوں۔"

    ,


    شیخ سعدی فرماتے ہیں ایک بادشاہ کسی نیک فقیر کی بات پر غصہ ہوا تو اسے جیل میں ڈالوا دیااور اس پر مظالم شروع ہو گئے۔ فقیر کے دوستوں نے اسے نصیحت کی کہ بادشاہ کو ناراض کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس پر فقیر نے کہا کہ سچ بات کرنا عین عبادت ہے۔ بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ اب فقیر جیل میں ہی مرے گا اور یہ پیغام ایک غلام کے ذریعے فقیر تک پہنچا دیا۔ اس پر اس مرد نیک نے کہا کہ دنیا کی زندگی میرے لئے ایک گھڑی کے برابر ہے، مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہو جائیں گے، لٰہذا اے بادشاہ، زندگی اس طرح گزار کہ لوگ تیرا ذکر اچھے انداز میں کریں، نہ کہ تیرے مرنے کے بعد تجھ پرلعنت بھیجیں۔

    (حکایات شیخ سعدی)


    لوگوں نے ہرمز بادشاہ سے پوچھا:

    ” تو نے اپنے والد کے وزیروں کا کیا قصور دیکھا کہ انہیں قید کردیا۔"

    ہرمز نے کہا:

    ” قصور تو میں نے معلوم نہیں کیامگر میں نے دیکھا کہ ان کے دلوں میں میرا بہت زیادہ خوف ہے اور میرے عہد پر پورا یقین نہیں رکھتے۔ میں ڈر گیا کہ کہیں اپنے نقصان کے ڈر سے مجھے ہلاک کرنے کا ارادہ نہ کریں۔ بس میں نے داناؤں کے قول پر عمل کیا کہ انہوں نے کہا ہے کہ جس آدمی کا رعب و دبدبہ لوگوں کے دلوں پر چھاجائے، لوگ اسے ہلاک کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔"

    شیخ سعدی اسی لیے ایسے لوگوں سے محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور دلیل پیش کرتے ہیں کہ سانپ کو چرواہے سے اپنی جان کا خطرہ ہوتا ہے. اسلی لیئے وہ اسے ڈس لیتا ہے۔

    اسی طرح جب بلّی کو اپنی جان بچتی نظر نہیں آتی تو وہ چیتے پر جھپٹ پڑتی ہے۔اور اس کی آنکھیں نکال دیتی ہے۔

    (حکایت شیخ سعدی)

    ,


    دو مصوروں نے آپس میں کہا کہ دیکھیں ہم دونوں میں اچھی تصویر کون بناتا ہے۔ ایک میں انگوروں کی تصویر بنائی اور دروازے پر لٹکا دی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اصلی انگور لٹک رہے ہیں۔ چڑیا آکر اُس پر چونچ مارنے لگی۔ لوگوں نے دیکھا اور سب نے اُس کے کمال کی بہت تعریف کی۔ 

    اگلے دن یہ مصور دوسرے مصور کے پاس گیا اور پوچھا کہ آپ نے بھی کوئی تصویر بنائی ہے؟ اُس نے کہا، ہاں اور اشارہ کیا کہ تصویر اُس پردے کے پیچھے ہے۔ مصور نے بڑھ کر پردے پر ہاتھ ڈالا تو پتا چلا کہ وہ پردہ نہیں، پردے کی تصویر ہے۔ 

    اُس مصور نے کہا کہ کیوں صاحب، یہ کمال ہے کہ نہیں؟ تمہاری تصویر پر چڑیوں نے دھوکا کھایا، میری تصویر پر مصور نے۔۔۔۔

    ,


    مالی، پودے اور باغیچہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز نہ ہو تو باقی دونوں چیزیں بیکار ہوجاتی ہیں اور ان کی انفرادیت اور اثر انگیزی بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ ان تینوں چیزوں میں مالی کا کردار نہایت اہم ہے۔ پودے اور باغیچہ کے حسن پر رنگینی اور بہار کا انحصار ہوتا ہے۔ ایک محنتی اور فرض شناس مالی اپنے پودوں کی اچھی طرح نگہداشت کرتاہے۔ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے باغ کے پودوں کی نشوونما، خوبصورتی، اور کے حسن کو بر قرار رکھنے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ اس کی اس محنت کے بدولت باغیچہ اپنے حسن اور معیار میں انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔

    اسی طرح استاد، شاگرد، اور درس گاہ کا تعلق ہے۔ اگر ان میں کوئی ایک بیکار ہو تو دوسروں کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ مالی ہی کی طرح استاد ان میں سر فہرست ہے۔ اگر استاد محنتی، فرض شناس، لائق اور ذمہ داریوں کو نبھانے والا ہوگا تو اس کے سائے تلے آبیاری پانے والے شاگرد نکھر جائیں گے۔ وہ علم کے شجر سایہ دار بن جائیں گے۔ بلکل اسی طرح اگر شاگرد بھی فرض شناس ہوگا تو درس گاہ تعلیمی حسن و معیار میں یکتا ہو جائے گا۔ 

    ,


    کسی تکلیف، اشتعال انگیزی، درد اور جبر کو ٹھنڈے مزاج سے برداشت کرنے کو صبر کہتے ہیں۔ صبر کا الٹ کم ہمتی، کم برداشت اور کم استقلال ہے۔

    صبر کی صفت جس طرح دین میں ایک افضل صفت ہے، اسی طرح دنیا میں بھی افضل صفت ہے۔ جو شخص محنت سے بچنے کے لیے کام کی تکمیل سے پہلے کام کو چھوڑ دیتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔

    بے صبر آدمی میں استقامت نہیں ہوتی۔ وہ کسی کام کو جم کر نہیں کرتا اس لیے ترقی نہیں پاتا۔ آسانی کے لالچ میں تیزی دکھانا، صلہ پانے کے لیے جلدی کرنا، کسی فرض کو پورا کیے بغیر ادھورا چھوڑ دینا، یہ سب ایسی کم زوریاں ہیں جو آدمی کو اچھے نتائج سے محروم کرتی ہیں۔

    صبر وہ کرتا ہے جس کا ایمان مضبوط ہو جو اللہ تعالیٰ  کا شکر گزار ہو۔ سورة ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: "ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔"

    اگرچہ یہ صفت پوری انسانیت کے لیے ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے تو لازمی ہے، کیوں کہ اس کے بغیر نیکی حاصل نہیں ہوسکتی۔

    ('جاگو جگاؤ' - حکیم محمد سعید)

    ,



    وہ کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ میں نے پہلے ہی نظر میں اسے پسند کیا۔ سجانے والے نے اسے کتنے خوب صورت انداز سے سجایا تھا۔ کیسے شاندار اسٹائل سے کھڑا تھاوہ۔ شاید اس کے کھڑے ہونے کے اس خوبصورت انداز نے ہی مجھے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ ان چند ساعتوں میں، میں نے اسے ہمیشہ کیلئے اپنا دوست بنانے کا تہیہ کر لیا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا اور گھر والوں سے ملوایا۔ سب اس سے مل کے بہت خوش ہوئے۔ اگلے دن میں اسے اپنے ساتھ اسکول لے گیا اور اپنے دوستوں سے اسکا تعارف کروایا۔ سب نے اسکی بے حد تعریف کی۔

    مجھے ڈر تھا کہ کوئی اسے مجھ سے جدا نہ کردے۔ میرا دوست بہت وفادار ہے۔ ہمیشہ کام آتا۔ کلاس کے ٹیسٹ اور امتحانات میں، میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا اور یہ میری پوری پوری مدد کرتا۔

    وہ مجھے بہت عزیز ہے۔ ایک مرتبہ ہوا یہ کہ ہم اسکول سے واپس گھر جارہے تھے کہ راستے میں ہمیں ٹھوکر لگی۔ میں نے کسی طرح اپنے آپ کو تو سنبھال لیا لیکن وہ گر گیا اور اُس کا سر ایک پتھر سے ٹکراگیا۔ اُس کی چوٹ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ زخم کا نشان اب بھی اُس کے سر پر موجود ہے جو ہمیں اُس دن کی یاد دلاتاہے۔

    میرا دوست میری ہر جگہ مدد کرتا ہے۔ وہ میرے خیالات کا بہترین ترجمان ہے۔ میرے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔

    مجھے اپنے دوست سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی دوستی ایک دن مجھے ترقی کی راہ پر گامزن کرےگی۔ کیا آپ میرے اِس دوست کو پہچان گئے؟ اگر نہیں تو میں آپ سے اسکا تعارف کرواتا ہوں۔ میرے اس عظیم دوست کا نام 'قلم' ہے۔

    (یہ تحریر ہمیں وادئ سوات کے شہر منگورہ سے جناب انوارالحق صاحب نے ارسال کی ہے۔ یہی تحریر ماہنامہ چائلڈاسٹار کے اکتوبر 1997 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ ہم، تحریر دوبارہ بھیجنے پر جناب انوارالحق صاحب کے مشکور ہیں۔)

    ,



    کچھ دن قبل فیس بک پر یہ تصویر نظروں سے گزری تو بچپن میں پڑھا ایک واقعہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ کا قافلہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ راستے میں بادشاہ کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو بڑی محنت اور محبت سے پودے لگا رہا تھا۔ بادشاہ دیر تک اس کا یہ کام توجہ سے دیکھتا رہا۔ جب بوڑھارک کر آرام کرنے لگا تو بادشاہ نےپوچھا۔۔۔۔

    "بابا کیا تمھیں یہ یقیں ھے ان پودوں کے پھلوں سے تم کبھی فائدہ اٹھا سکو گے اگر نہیں تو پھر اس عمر میں اتنی محنت کا فائدہ کیا؟"

    یہ سن کر بوڑھا مسکرایا اور کہنے لگا:

    "جناب عالی! آج جو پھل میں کھارہا ھوں اُس کے پودے کل کسی اور نے لگاۓ تھے اور جو آج میں لگا رھا ھوں انکا پھل وہ کھایئں گےجو میرے بعد آنے والے ہیں۔"

    دیکھا جائے تو ہمارا حال اس سے کچھ کم نہیں ہے۔ ہماری زندگی اسی آج اورکل کے درمیان کھو کر رہ گئی ہے۔ ہمیں یہ تو فکر ہے کہ اپنے آنے والے کل کو کس طرح شاندار بنائیں۔ رہنے کے لئے کیسا مکان بنایا جائے، کیسی گاڑی خریدی جائے۔ والدین کو اپنی اولاد کی کل کی فکر ھے کہ کیسے پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر پہنچے اور دنیا میں اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے۔۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا آج اورکل صرف اس فانی دنیا کے لئے ہے۔ ہمیں اپنے حقیقی کل کی کوئی فکر نہیں ہے جو عنقریب آنے والی ہے اور جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ کل جسے قبر بھی کہتے ہیں، جسے میدان حشر بھی کہتے ہیں۔ جس کی تیاری کے لئے ہمیں ابھی سے ایسے پودے لگانے چاہئے جن کا پھل ہمیں وہاں جا کے فائدہ دے سکے۔

    آئیے آج ھم اس کل کی فکر کرلیں جسکی فکر کی دعوت ھم سب کے رب نے اور پیارے نبی کریمﷺ نے دی۔

    ,


    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔

    قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"

    بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔

    اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


    وہ بیٹیاں تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیرتمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ان کے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں وہ آٹے میں جذب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مندو! ان کی قدر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں۔

     مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری


    اخبار,خبروں کی ترسیل کا ایک بہت پرانا ذریعہ ہے۔ زمانہ قدیم سے انسان مختلف طریقوں سے خبروں کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ہزاروں سال قبل انسان مختلف ذرائع سے اطلاعات کی ترسیل کیا کرتا تھا۔ ان میں دھویں کے ذریعہ، ڈھول، نقارے یا ناقوس کی آواز کے ذرائع شامل تھے۔ انہیں کے ذریعے انسان اطلاعات کی ترسیل کرکے دُشمنوں سے بچنے کی تدا بیر کیا کرتا تھا۔

    دُنیا میں پہلا اَخبار کب اور کہاں شائع ہوا یہ وثوق سے کہنا تو نہایت مشکل ہے تاہم اخبارات کی عالمی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم روم میں جولیس سیزر کے عہد میں سرکاری اعلانات کے بلیٹن ’ایکٹا ڈیورنا ‘کے نام سے شائع کیے جاتے تھے۔پتھر یا دھات کی تختیوں پر اطلاعات کندہ کرکے انہیں عام جگہوں پر نصب کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چینی حکومت نے بھی پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں اپنے درباریوں کے لیے ایک اطلاع نامہ جاری کیا تھا، جسے ’تِپاؤ‘ کہا جاتا تھا۔ چین میں ٹینگ حکمرانی کے دوران بھی ایک سرکاری اخبار ریشم کے کپڑے پر دستی تحریر سے شائع کیا جاتاتھاجسے صرف سرکاری افسران پڑھتے تھے۔



    میں 90 کی دھائی میں پیدا ہوا

    جب سب سے مشہور کھیل “چھپن چھپائی“ ، “برف پانی “ اور “اونچ نیچ“ ہوتے تھے

    جب سب سے بہترین میٹھے “پولکا“ ، “پاپ کارن“ “جوبلی“ اور “میچل ٹافی“ ہوتے تھے
    جب پیپسی چھ روپے کی ہوا کرتے تھی

    جب ہم ساڑھے سات بجے اسکول جانے سے پہلے پی ٹی وی پر کارٹون دیکھتے تھے

    اور

    شام سات بجے “ننجا ٹرٹلز“ اور “کیپٹن پلینٹ“ دیکھتے تھے

    جب ہمیں موویز دیکھنے کی اجازت نہ ہوتی تھی اور ہم پھر بھی کسی طرح مینج کر لیتے تھے

    جب ہمارا بہترین اثاثہ “ببل گمرز شوز“ ہوتے تھے

    جب پچاس روپے عیدی ملنے کا مطلب ہوتا تھا کہ آپ امیر ہو گئے ہو

    جب ہم “ اکڑ بکڑ بمبے بو “ سے فیصلے کیا کرتے تھے

    جب ہمارے لیے سب سے خوفناک چیزیں “انجیکشنز“ ، “تاریک کمرے“ اور “قاری صاحب“ ہوا کرتے تھے

    جب “ ونڈر بریڈ کی بی ایم ایکس سائیکل “ پورے محلے میں جیلسی کا سبب ہوتی تھی

    جب کرکٹ کھیلتے ہوئے اصول ہوا کرتا تھا کہ گھر میں جانا آئوٹ ہے اور جو مارے گا وہی لے کر آئے گا

    بچگانہ لیکن بہترین یادیں

    نئی نسل یہ چیزیں کبھی انجوائے نہیں کرے گی

    (خوبصورت یادیں - اجد تاج)

    ,


    لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔

    لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔

    ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:
    آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔
    ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔
    (مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)

    ,


    ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

    مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔

    مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت وزنی لگتی ہے، لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے۔"

⬆
Top