Most Popular
This Week
Latest Stories
What is new?
Comments
What They says?
تازہ ترین
ads
متفرق تحاریر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تازہ ترین, متفرق تحاریر
اگر آپ قرآن کریم میں بیان کئے گئے تمام درختوں اور پودوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے لئے دبئی کا رخ کریں جہاں مقامی انتظامیہ ایک ایسا وسیع پارک تعمیر کر رہی ہے جس میں قرآن کریم ميں بیان کئے گئے 54 میں سے 51 درختوں اور پودوں کو لگایا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق دبئی کے پروجیکٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرجنرل محمد نور مشروم کا کہنا تھا کہ قرآن میں 54 درختوں اور پودوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں انار، زیتون، تربوز، کیلے، گندم ، پیاز ، املی، انگور، نیاز بو ،کددو اور دیگر شامل ہیں، 158 ایکٹر وسیع رقبے پر مشتمل پارک میں اب تک 31 درختوں اور پودوں کو لگایا جا چکا ہے جب کہ بقیہ 20 کو تیسرے مرحلے ميں لگایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک میں بیان کئے گئے 3 پودے اس وقت دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ۔
محمد نور مشروم نے کہا کہ پارک میں ایک ایئرکنڈیشنڈ سرنگ بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس میں قرآن پاک کے کرشمے اور دیگر بیان کئے گئے واقعات سے متعلق بھی آگاہی دی جائے گی جب کہ پارک کے درمیان میں ایک جیل بھی بنائی جا رہی ہے۔
تازہ ترین, متفرق تحاریر
اخبار میں ایک اشتہار دیکھ رھا تھا... "ہم اپنے بیٹے کو بوجہ نافرمانی، گستاخی، بدچلنی و آوارہ گردی اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے عاق کرتے ہیں... ہم اس کے کسی نفع نقصان کے ذمہ دار نہیں ہونگے... ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا... "
میرا اللہ کتنا اچھا ہے...
میں بدچلن ہوں، آوارہ ہوں، گستاخ ہوں، نافرمان ہوں لیکن میرا اللہ کبھی مجھے اپنی نعمتوں سے عاق نہیں کرتا، مجھ سے قطع تعلقی کا اشتہار نہیں نکالتا، میری روٹی روزی سے غافل نہیں ہوتا، لوگوں کو بتا کر مجھے ذلیل و رسوا نہیں کرتا... خاموشی سے دروازہ کھلا چھوڑ کر میرے لوٹنے کا دن رات انتظار کرتا ہے...
میرا اللہ کتنا اچھا ہے...
اور جب کبھی اپنی شامت اعمال کے نتیجے میں کسی تکلیف میں مبتلا ھو کر اسے پکارتا ہوں تو میری سن کر مجھے ڈھارس بھی دیتا ہے اور اس تکلیف سے مجھے نکالنے کی سبیل بھی کرتا ہے جس میں خود اپنی غلطی سے پھنس جاتا ہوں.. پھر کبھی کسی رات پشیمانی سے مجبور ھوکر آنسو بہاتے ہوئے اس سے شرمسار ہوتا ہوں تو وہ ماں سے بھی زیادہ تڑپ کے ساتھ اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے...
میرا اللہ کتنا اچھا ہے...!!
تازہ ترین, متفرق تحاریر
ایک بارشاہ ایک عجمی غلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا. غلام نے کبھی دریا نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کشتی میں سوار ہوا تھا. پانی سے ڈر کر اُس نے رونا دھونا شروع کردیا. بادشاہ کو غلام کا رونا دوھونا ناگوار گزرا. کشتی میں ایک دانا شخص سوار تھا جو بادشاہ سے بولا آپ حکم دیں تو میں اسے خاموش کراوا سکتا ہوں. بادشاہ نے کہا بڑی مہربانی ہوگی. دانا کے کہنے پر لوگوں نے غلام کواُٹھا کر دریا میں پھینک دیا. چند غوطے کھانے کے بعد غلام کو دریا سے با ہر نکال لیا گیا. باہر آنے کے بعد وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور اُس کو سکون ہو گیا. بادشاہ کو تعجب ہوا اور دانا سے دریافت کیا کہ اس میں کیا حکمت تھی تو جواب ملا کہ غلام نے اس سے قبل ڈوبنے کی تکلیف نہیں اُٹھا ئی تھی اور کشتی میں محفوظ رہنے کی قدر سے نا واقف تھا. آرام کی قدر وہی کرتا ہے جو کسی مصیبت میں پھنس جائے.
(حکایت ِ سعدی)
تازہ ترین, متفرق تحاریر
ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا:
کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟
بولی: آپ کا خطاب کس سے ہے؟ بتی سے ، تیل سے ، ٹین کی ڈبیہ سے ، کانچ کی چمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔ میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔
لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ اگر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کرلیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔
میں حیران ہوگیا کہ اگر لالٹین کے کسی جزو کو لالٹین کہوں تو یہ درست نہ ہوگا اور اگر تمام اجزاء کو ملا کر لالٹین کہوں تب بھی موزوں نہ ٹھہرے گا، کیونکہ لالٹین کا دم روشنی سے ہے۔ روشنی نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ مگر دن کے وقت جب لالٹین روشن نہیں ہوتی ، اس وقت بھی اس کا نام لالٹین ہی رہتا ہے۔ تو پھر کس کو لالٹین کہوں۔ جب میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ، تو مجبوراً لالٹین ہی سے پوچھا:
میں خاکی انسان نہیں جانتا کہ تیرے کس جزو کو مخاطب کروں اور کس کو لالٹین سمجھوں۔
یہ سن کر لالٹین کی روشنی لرزی ، ہلی، کپکپائی۔
گویا وہ میری ناآشنائی و نادانی پر بےاختیار کھلکھلا کر ہنسی اور کہا:
"اے نورِ خدا کے چراغ ، آدم زاد ! سن، لالٹین اس روشنی کا نام ہے جو بتی کے سر پر رات بھر آرا چلایا کرتی ہے۔ لالٹین اس شعلے کو کہتے ہیں جس کی خوراک تیل ہے اور جو اپنے دشمن تاریکی سے تمام شب لڑتا بھڑتا رہتا ہے۔ دن کے وقت اگرچہ یہ روشنی موجود نہیں ہوتی لیکن کانچ اور ٹین کا پنجرہ رات بھر ، اس کی ہم نشینی کے سبب لالٹین کہلانے لگتا ہے۔"
"تیرے اندر بھی ایک روشنی ہے۔ اگر تو اس کی قدر جانے اور اس کو پہچانے تو سب لوگ تجھ کو روشنی کہنے لگیں گے ، خاک کا پتلا کوئی نہیں کہے گا۔”
دیکھو ،خدا کے ولیوں کو جو اپنے پروودگار کی نزدیکی و قربت کی خواہش میں تمام رات کھڑے کھڑے گزار دیتے تھے، تو دن کے وقت ان کو نورِ خدا سے علیحدہ نہیں سمجھا جاتا رہا ، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی ان کی وہی شان رہتی ہے۔
تو پہلے چمنی صاف کر۔ یعنی لباسِ ظاہری کو گندگی اور نجاست سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کے بعد ڈبیا میں صاف تیل بھر۔ یعنی حلال کی روزی کھا، اور پھر دوسرے کے گھر کے اندھیرے کے لئے اپنی ہستی کو جلا جلا کر مٹا دے۔ اس وقت تو بھی قندیلِ حقیقت اور فانوسِ ربانی بن جائے گا۔
(از: خواجہ حسن نظامی)
تازہ ترین, متفرق تحاریر
ساڑھے پانچ فٹ کے ایک انسان کو”عقل“ نامی ایک ایسے 'ڈیوائس' کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے جس کے استعمال سے وہ نہ صرف زندگی کے ہر نشیب و فراز سے واقف ہو جاتا ہے بلکہ سمندروں کی گہرائیوں، پہاڑوں کی اونچائیوں، ہواؤں کے بہاؤ کو ناپنے لگتا ہے اور اِن کی حسبِ کیفیت اِن سے اپنے رویوں کا تعین کرتا ہے اور اپنی زندگی کو محورِ تعیش عطا کر کے اپنی عقل پر اِترانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ رفتہ رفتہ اِسی عقل کو، عقل دینے والے کے خلاف باغیانہ سرگرمیوں پر لگا دیتا ہے۔ لیکن اُس کی عقل کی حقیقت تب کھلتی ہے جب وہ اپنے اختیارات کا حدود آشنا ہو جاتا ہے اور یہ مقام وہ ہوتا ہے جہاں سے پلٹنا اُس کے بس کی بات نہیں ہوتی یعنی وہ 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' پر پہنچ جاتا ہے۔ اِس لیے کہ سمندر بپھر جاتے ہیں، پہاڑ آتش فشاں بن کر لاوا اُگلنے لگتے ہیں، ہوائیں آندھیوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور بگولے اِنسانی عقل ہی کو نہیں خود انسان ہی کو اُڑا لے جانے کے لیے تیار رہتے ہیں، پاؤں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے۔ اُس کی قوت و حشمت اور قابلیت و صلاحیت بے حقیقت ہو جاتی ہے۔ تب اُسے اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگتا ہے، وہ سارا شرک بھول کر ایک ہی خالق و مالک کے آگے جھکنے پر آمادہ ہوتا ہے اور اِسی بحران میں وہ شرک کو بھولنا چاہتا ہے اور خلوص کے ساتھ صرف اپنے خالق کو پکارنے لگتا ہے۔ لیکن بقول شاعر;
جب زمین پھٹتی ہے آتا ہے سمندر میں اُبال
تب تو فرعون بھی اقرارِ خدا کرتے ہیں
(از: عزیز بلگامی)
متفرق تحاریر
علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم ہلائے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔
(از: شفیق الرحمان)
متفرق تحاریر
روایت ہے کہ مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے۔ایک دکان پر جا کر رک گئے۔دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،"عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے،چھوڑو پیسے اور جاؤ۔"
مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے۔دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
"مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟"
مولانا رومی نے جواب دیا، "میں اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح کے دانے گن گن کر گراتا ہوں۔"






