Most Popular
This Week
Latest Stories
What is new?
Comments
What They says?
تازہ ترین
ads
ٹیکنالوجی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تازہ ترین, ٹیکنالوجی
![]() |
کیا تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی دنیا میں نیا صنعتی انقلاب برپا کرنے والی ہے؟
![]() |
| بچوں کو کھلونوں کا "کارخانہ" گھر میں ہی ملے گا۔ |
نہایت قلیل عرصے میں دنیا نے تیزی سے ترقی کی ہے اور ہم ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ کمپیوٹرٹیکنالوجی میں ہونے والی شب و روز ترقی ایک جدید ٹیکنالوجی یعنی تھری ڈی پرنٹنگ تک پہنچ چکی ہے۔ تھری ڈی پرنٹنگ کیا ہے اور ہم اس سے کیا کام لے سکتے ہیں ؟اس بارےمیں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسا چھوٹا سا گھریلو کارخانہ ہے جس کی مدد سے آپ کوئی بھی چیز تیار کر سکتیں ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین اسے انٹرنیٹ سے بھی بڑی ایجاد تصور کرتے ہیں۔
![]() |
تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے کم وزن اور پائیدار مصنوعی جسمانی اعضاء بنائے جاسکتے ہیں۔
|
آج پرنٹرایک اہم ضرورت بن چکا ہے اور تقریباً ہر کمپیوٹر سے ایک پرنٹر منسلک ہے جو ہماری لکھی ہوئی تحریر کاغذ پر چھاپنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسا پرنٹر ہو جو آپ کے کمپیوٹرمیں کسی تین جہتی( تھری ڈی) ماڈل کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔جس کے ذریعے آپ اپنے بچوں کے لئے نت نئے کھلونے، کسی بحری جہاز، ہوائی جہاز، کاراور دیگر آٹوموبائلز کے ماڈلز، اپنے موبائل اور روز مرہ کے استعمال کی دیگر اشیاء خود تیار کر سکیں گے۔ یہ باتیں کسی سائنس فکشن ناول یا سٹارٹریک طرز کی سائنسی فلم کی لگتیں ہیں لیکن تھری پرنٹر ز ایک حقیقت بننے والی ایسی مشین ہے جو کسی بھی چیز کو مطلوبہ سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انجینئرز اور ڈیزائنر زگزشتہ کئی سالوں سے تھری ڈی پرنٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ استعمال محدود پیمانے پر تھا اور صرف عملی تجربے سے قبل آگاہی کے لیے کیا جاتا تھا، آج تھری ڈی پرنٹرزکی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
![]() |
| تھری ڈی پرنٹڈ جوتے |
تھری ڈی پرنٹرز پلاسٹک سمیت مختلف دھاتوں کوآپ کے ڈیزائن کردہ ماڈل میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ اس کے ذریعے اپنے لئے کار بھی بنا سکتے ہیں۔ جی ہاں! اور ایسا ہوا ہے۔ "یوربی۔ٹو" کے ماہر ڈیزائنر جم کور نے اپنے لئے پلاسٹک کی کار تیار کی ہے۔ اس کار کا پلاسٹک اسٹیل جیسا ہی مضبوط ہے اور وزن بھی نہایت ہی کم ہے۔ تین پہیوں کی کار کا کل وزن صرف 544 کلو گرام ہے۔ جم کور کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی اسے ایک عام کار سے بھی زیادہ مضبوط کار بنا دیں گے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کاتجرباتی استعمال ان گنت میدانوں کیا جارہا ہے۔شعبہ طب میں اس کے تجرباتی استعمال میں دانتوں کے کراؤن ، مصنوعی ہڈیاں اور جوڑ تیار کیے گئے ہیں۔جاپان میں اس کے ذریعے انسانی کلون بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔مستقبل میں تھری ڈی پرنٹنگ زیورات اور آرکیٹکچر جیسے شعبوں میں استعمال ہونے لگے گی۔
![]() |
| یوربی 2، تھری ڈی پرنٹنگ کار |
یہ ٹیکنالوجی صرف کھلونوں، کاروں اور دیگر چیزوں کی حد تک محدود نہیں ہوگی بلکہ آپ اس کے ذریعے اپنے من پسند کھانے بھی "پرنٹ" کرسکیں گے۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے تھری ڈی پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانوں سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔
![]() |
| تھری ڈی پرنٹڈ پیزا |
اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے کسی مخصوص چیز کے لئے اس کے تیار کنندہ کی اجارہ داری کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائیگا۔ خریدار کو اصل تیارکنندہ سے کچھ خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ اپنی مرضی کے کھلونے، برتن ، جوتے، موبائل فون کورز وغیرہ گھر بیٹھے خودتیار کر سکیں گے۔ایک جانب تو یہ ایک سہولت ہوگی لیکن دوسری جانب مصنوعات کی تیاری کے لیے کارخانوں اور مزدوروں کی ضرورت کم ہوجائے گی جو بہرحال عالمی بیروزگاری کا باعث ثابت ہوگی۔
![]() |
| اس معزور بچی کے ہاتھوں کو تھری ڈی پرنٹر سے بنے کم وزن ایکسو اسکیلیٹن کی مدد سے کار آمد بنایا گیا ہے۔ |
ٹیکنالوجی جہاں سہولیات اور آسائشیں بہم پہنچاتی ہیں وہیں کچھ لوگ انہیں منفی مقاصد کے لئے استعمال کر نا شروع کر دیتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک خبر سنی کہ امریکہ میں بندوقوں کے تھری ڈی پرنٹ ایبل ماڈلز پرپابندی لگا دی گئی ہے اور انٹرنیٹ سے ایسی تمام اسلحے کے تھری ڈی ماڈلز ہٹائے جا رہے ہیں۔ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ نے ایک مشین گن ،تھر ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس گروپ نے مشین گن کو تیار کرنے کے لیے ایک سال تک کوشش کی جس کا جنوبی آسٹن کے ٹیکساس شہر کے ایک فائرنگ رینج میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا۔ اس ٹیسٹ فائر کی وڈیو نے انٹرنٹ پر جاری ہوتے ہی تہلکہ مچادیا ہے۔ دنیا میں پہلی بار کسی پرنٹر سے "شائع شدہ" گن سے فائر کیا گیا ہے۔ ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ جس نے یہ بندوق تیار کی ہے وہ انٹر نیٹ پر دستیاب بلو پرنٹ کے ذریعے مزید اسلحہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یورپ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یوروپول کے سائبر کرائم سنٹر نے کہا ہے کہ "موجودہ مجرم ہتھیار خریدنے کے روایتی ذرائع پر ہی زیادہ انحصار کریں گے۔وقت کے ساتھ جب یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے لیے زیادہ آسان اور سستی ہو جائے گی تو ایسے میں ممکن ہے کہ اس کے خطرے بڑھ جائيں۔"اس پرنٹر سے تیار کیے گئے خودکار ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ اس طرح تیار ہونے والا اسلحہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل ہی میں ہے اور اصل سے مہنگا پڑتا ہےلیکن یہ انسانی تباہی کا یک نیا باب کھول دے گا۔ لوگ اپنی مرضی سے، بغیر قانونی مراحل سے گزرے خطرناک اسلحہ گھر بیٹھے بنائینگے اور جہاں مرضی استعمال کریں گے۔ پلاسٹک کا ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے میٹل ڈیٹیکٹرز اور ویپن اسکینرز اس اسلحے کا کھوج نکالنے میں ناکام رہینگے۔
ان پرنٹرز کا دوسرا شدید خطرہ ماحولیاتی ہے۔صنعتی انقلاب نے اس سیارے کو طرح طرح کی زہریلی گیسوں اور کثافتوں سے بھر دیا ہے۔ صنعتی فُضلے کو ٹھکانے لگانا بجائے خود ایک لاینحل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں اگر صارفین کے ہاتھ ایسے پرنٹر لگ جائیں جو، ان کی مرضی کے موافق انھیں چیزیں بنا بنا کر دیے چلے جائیں تو اندازہ کیجیے کہ آلودگیاں، صنعتی فضلہ اور شہری کچرا مزید کتنا بڑھ جائے گااس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
تازہ ترین, ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایسے ہوا کہ ایک تحقیق کے مطابق 2013کاسب سے مقبول ترین لفظ 404ایرر کوڈ ہے۔
امریکی ادارے گلوبل لینگوئج مانیٹر کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق موجودہ سا ل میں مشہور ترین انگریزی لفط انٹر نیٹ کا ایرر کوڈ 404ثابت ہوا ہے، دوسرے نمبر پر موجود ہے ، فیل، جسکی وجہ شاید 4 Chanگیم کا زیادہ استعمال لگتا ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر بھی انٹر نیٹ سے متعلقہ لفظ موجود ہیں، یعنی' ہیش ٹیگ' اور ٹویٹر کا ' Pontifex '۔
تازہ ترین, ٹیکنالوجی
پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی نے ڈیزائن اور تیار کیا۔
لاگت 35 لاکھ روپے آئی۔ زمین کے نچلے قطبی مدار کیساتھ 600کلومیٹر کی بلندی پر خلائی تحقیق کیلئے کام کریگا
پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ آئی کیوب-1، ڈنیپر نامی راکٹ کے ذریعے روس کے لانچ بیس یاسنے سے لانچ کردیا گیا۔آئی کیوب-1جسے انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی پاکستان نے تیار کیا، کے ڈیزائن اور تیاری پر تقریباً 35 لاکھ روپے لاگت آئی ہے ۔ واضح رہے کہ کیوب سیٹ انتہائی مختصر سائز کا ایک سیٹلائٹ ہوتا ہے ، جسے خلائی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر اس کا حجم ایک لیٹر (دس مربع سینٹی میٹر) اور اس کا وزن ایک کلو 33گرام سے زیادہ نہیں ہوتا۔اس کیوب سیٹ سیٹلائٹ سے مستقبل کے تجربات کے لیے ایک وسیع سلسلے کا آغاز ہوسکے گا، اس کیوب سیٹ کی کارکردگی کا دائرہ امیجنگ، مائیکرو گریویٹی، بائیولوجی، نینو ٹیکنالوجی، سپیس ڈائنامکس، کیمسٹری، سپیس فزکس اور دیگر مختلف شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔
یہ کیوب سیٹ بہت سے سیٹلائٹ کی تیاری میں کام آنے والے مخصوص پروگراموں کے لیے ایک بنیاد بھی فراہم کرے گا۔بیس فیکلٹی ممبرز اور پندرہ طالبعلموں پر مشتمل ایک ٹیم نے اس پراجیکٹ پر 2009ء میں کام کا آغاز کیا تھا۔آئی کیوب-1 کے بارے میں توقع ہے کہ یہ دو سال کے عرصے تک کام کرتا رہے گا۔ یہ زمین کے نچلے قطبی مدار کے ساتھ چھ سو کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے ۔پاکستانی کیوب سیٹ ہو بہو بڑے سیٹلائٹ کی ہی طرح ہے تاہم اسے سٹوڈنٹ سیٹلائٹ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کم خرچ اور کم وقت میں جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے ۔
ٹیکنالوجی
برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔ بی بی سی لے مطابق برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔
منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔
بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔ ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں.
نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔
ٹیکنالوجی
پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔
سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔
ٹیکنالوجی, متفرق تحاریر
لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔
لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:
آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔
(مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)
ٹیکنالوجی

نوکیا کی جانب سے صارفین کے لئے چھ نئی ڈیوائسز کل 22 اکتوبر کو متعارف کروائی جارہی ہے۔ نوکیا ،کل ابو ظہبی میں نوکیا ورلڈ نامی ایک تقریب کا انعقاد کرنے جارہا ہے جس میں ان ڈیوائسز کی رونمائی کی جائے گی۔ مائیکروسافٹ اور نوکیا کے درمیان ہونے والی حالیہ اشتراک کے بعد نوکیا کی یہ تقریب خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ نوکیا کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر سٹیفن ایلوپ ، مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے اس تقریب کی میزبانی کریں گے۔

انٹرنیٹ پر جاری خبروں کے مطابق نوکیااس تقریب میں پہلی ونڈوز آر ٹی ٹیبلیٹ لومیا 2520 اور 6 انچ سکرین کا حامل نیا سمارٹ فون لومیا 1520 فیبلیٹ متعارف کروائےگا۔ ساتھ ہی ساتھ نوکیا دیگرچار نئے گیجٹس بھی متعارف کروائے گا۔

نئی ٹیکنالوجی، سمارٹ فون اور ٹبلیٹس کے حوالے سے خبریں لیک کرنے والے ایک مستند نام evleaks نے آج ٹویٹر پر Moroleaks حوالے سے آئی پوڈ شفل سے ملتی جلتی ایک میوزک ڈیوائس کی تصویر لیک کی ہے۔ اس ڈیوائس میں بلیوٹوتھ اور این ایف سی موجود ہے تاہم اس کے بارے میں مزید کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاکستانی وقت کے مطابق کل دوپہر 12 بجے یہ تقریب ابو ظہبی میں شروع ہوگی۔ انٹرنیٹ پر یہ تقریب براہ راست conversations.nokia.com پر دیکھی جاسکتی ہے۔ نوکیا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ شاید کمپنی عنقریب موبائل اور ٹیبلیٹس کے بعد لیپ ٹاپ بھی متعارف کروائے۔
ٹیکنالوجی, کمپیوٹر ٹپس
مائکروسافٹ نے آج اپنے مشہور زمانہ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کا نیا ورژن لانچ کر دیا ہے۔ ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین، ونڈوز8.1 کے نام سے جاری اس ورژن کو مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ سے بلکل مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس نئی اپڈیٹ میں پچھلے ورژن کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئے فیچرز بھی شامل کئے گئے ہیں۔
ونڈوز 8 کی ریلیز پر ماہرین نے اس کے یوزرانٹرفیس اور مشہور زمانہ "اسٹارٹ بٹن" کی غیر موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ونڈوز 8.1 میں "اسٹارٹ بٹن" کو ایک نئے انداز میں دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے۔ ونڈوز کے اس نئے ورژن کا انٹرفیس ونڈوز 8 سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس ورژن میں انٹرنیٹ ایکسپلورر11، بِنگ سرچ، سکائی ڈرائیو کنیکٹیویٹی اور سکائپ جیسے نئے فیچرز شامل کئے گئے ہیں۔
ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین کو نیا ورژن خریدنے کی ضرورت نہیں اور وہ اسے ونڈوز ایپ اسٹور سے بلکل مفت ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ دیگر صارفین کے لئے اس کی قیمت 200 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
مائیکروسافٹ پہلے ہی یہ ورژن ہارڈوئیر شراکت داروں کو بھیج چکا ہے تاکہ وہ نئے کمپیوڑز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس پر اسے انسٹال کر سکیں۔ نئے ورژن کی لانچنگ کے ساتھ ہی ونڈوز 8.1 کے حامل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس مارکیٹ میں لانچ کردئے گئے ہیں۔
ونڈوز 8.1 کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ٹیکنالوجی
امریکی فوج نے سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں، حکومتی لیبارٹریوں اور سائنس دانوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ مشہور زمانہ فلم "آئرن مین" کی طرز پر لباس تیار کیا جا سکے۔ امریکی فوج پہلے ہی ایسے ایگزو سکیلیٹنز کے ٹیسٹ کر چکی ہے، جسے استعمال کرنے سے فوجی باآسانی زیادہ وزن لاد کر حرکت کر سکیں گے۔
![]() |
| امریکی ادارے لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ایگزو سکیلیٹن تجربات کے مراحل میں |
ٹیکٹیکل اسالٹ لائٹ آپریٹر سوٹ (ٹیلوس) نامی اس لباس میں ایسے سنسرز نصب کئے جائیں گےجس کی مدد سے فوجیوں کے جسمانی درجۂ حرارت، دل کی دھڑکن اور ہائیڈریشن کی سطح باآسانی معلوم کی جاسکے گی۔ "آئرن مین" سیریز کی فلموں میں دکھائے گئے لباس کے مانند ٹیلوس میں بھی وسیع رینج کے نیٹ ورکس اور گوگل گلاس کی مانند پہنے جانے والے کمپیوٹر لگے ہوں گے۔ ہاتھ اور ٹانگوں کے ساتھ لگائے جانے والے ایگزو سکیلیٹنز میں ہائیڈرولک سسٹم بھی موجود ہو گا تاکہ فوجیوں کو مزید قوت مل سکے۔
امریکی فوج کے ریسرچ اور انجینئرنگ کمانڈ کے لیے سائنسی مشیر لیفٹیننٹ کرنل کارل بورجیز کا کہنا ہےکہ ہماری خواہش ہے کہ یہ آرمر سوٹ ایگزو سکیلیٹن، صحت اور توانائی کی مسلسل نگرانی اور ہتھیاروں پر مشتمل ایک جامع سسٹم پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق یہ ایک جدید بکتربند سوٹ ہو گا، اس میں کمیونیکیشن، سینسرز، سرکٹس اور انٹینے نصب ہوں گے۔ امریکی فوج کے سارجنٹ میجر کرس فیرس کا کہنا ہے کہ ایسے جدید بکتر بند لباس کی تیاری اکیلے کسی ایک دارے کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے ہم نے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ اداروں، نجی سائنسی اداروں اور حکومتی لیبارٹریوں سے اس منصوبے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ امریکی فوج چاہتی ہے کہ ٹیلوس آرمر سوٹ کو تین سال کے اندر اندر تیار کر لیا جائے۔
امریکی فوج کے مطابق، یہ عین ممکن ہے کہ میسی چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنس دان بھی اس منصوبے پر کام کریں۔ ایم آئی ٹی کی ایک ٹیم ان دنوں ایسے مائع جسمانی بکتر بند کی تیاریوں میں مصروف ہے، جسے برقی یا مقناطیسی کرنٹ دینے پر ٹھوس شکل دی جا سکے گی۔
امریکا کی نیوز ویب سائٹ این پی آر سے ایک انٹرویو میں ایم آئی ٹی کے پروفیسر گیرتھ مک کینلی نے مستقبل کے آرمر لباس کا موازنہ ہالی وڈ کی فلموں میں دکھائے جانے والے لباسوں سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بالکل آئرن مین جیسے لباس ہوں گے۔
ٹیکنالوجی
یورپی یونین نے ایک ارب پونڈ کی لاگت سے ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے تاکہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ ہیومن برین پراجیکٹ (ایچ بی پی) نامی منصوبے میں یورپی ممالک کے 135 سائنسی اداروں میں کام کرنے والے سائنسدان حصہ لے رہے ہیں۔
برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس منصوبے میں سائنسدان ایسی کمپیوٹر سمولیشن تیار کرنے کی کوشش کریں گے جس سے انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران اور سو کھرب سے زیادہ لونیا جوڑوں پر مشتمل ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پروفیسر ہنری مارکرم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد انسانی دماغ کے بارے میں تمام معلومات کو اکھٹا کر کے ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا قیام ہے جس کے تحت دماغ کے بارے سمولیشن بن سکیں۔ انہوں نے کہا اس پراجیکٹ کے مقاصد میں یہ بھی شامہ ہے کہ دماغی بیماریوں کا کیسا پتا چلا جائے اور انسانی ذہن کو سمجھ کر کیسے ایک نیا ڈیجیٹل دماغ تیار کیا جائے؟
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کی مکمل سمولیشن تیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انسانی ذہن کو سمجھنے کے اس منصوبے کا انسانی جینوم پراجیکٹ کے ساتھ موازانہ کیا جا رہا ہے۔ ایک عشرے تک جاری رہنے والے انسانی جینوم پراجیکٹ میں ہزاروں سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا اور اس منصوبے میں انسانی جینیٹک کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے بعد سائنسدان انسانی دماغ اور ڈیجیٹل دماغ کا موازانہ کر کے انسانی دماغ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔
سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران اور سو کھرب سے زیادہ لونیا جوڑوں پر مشتمل ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پروفیسر ہنری مارکرم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد انسانی دماغ کے بارے میں تمام معلومات کو اکھٹا کر کے ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا قیام ہے جس کے تحت دماغ کے بارے سمولیشن بن سکیں۔ انہوں نے کہا اس پراجیکٹ کے مقاصد میں یہ بھی شامہ ہے کہ دماغی بیماریوں کا کیسا پتا چلا جائے اور انسانی ذہن کو سمجھ کر کیسے ایک نیا ڈیجیٹل دماغ تیار کیا جائے؟
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کی مکمل سمولیشن تیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انسانی ذہن کو سمجھنے کے اس منصوبے کا انسانی جینوم پراجیکٹ کے ساتھ موازانہ کیا جا رہا ہے۔ ایک عشرے تک جاری رہنے والے انسانی جینوم پراجیکٹ میں ہزاروں سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا اور اس منصوبے میں انسانی جینیٹک کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے بعد سائنسدان انسانی دماغ اور ڈیجیٹل دماغ کا موازانہ کر کے انسانی دماغ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔
ٹیکنالوجی, دلچسپ و عجیب
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے 3D پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی 3D پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانے سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک 3D پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔
ٹیکنالوجی
گزشتہ کچھ عرصہ سے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں تھری جی یعنی تھرڈ جنریشن ٹیکنالوجی کا بڑا چرچا ہورہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بھی یہ نظام بہت جلد آرہا ہے۔ لیکن تھری جی نظام حقیقت میں ہے کیا؟ اس بارے میں بہت کم لوگ معلومات رکھتے ہیں۔
مستقبل میں دنیا میں ہونے والی معاشی و معاشرتی تبدیلیوں میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کریگی۔ آج دنیا گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو چکی ہے جو بلاشبہ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا کوئی بھی شخص آپ سے صرف ایک بٹن کی دوری پر ہے۔ ٹیبل فون،موبائل فون، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے انسانی زندگی کا معیار بدل کر رکھ دیا ہے۔ ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں جدت لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انٹرنیٹ، موبائل اور پھر موبائل پر انٹرنیٹ کے استعمال نے دنیا کو ایک کھلی کتاب کی مانند بدل دیا ہے، لیکن موبائل پر انٹرنیٹ کی کم رفتار اور ویڈیو کانفرنسز جیسی سہولیات کی عدم دستیابی اس تیز رفتار ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس خامی پر قابو پانے کے لئے آئی ٹی ماہرین نے سر جوڑا اور ون جی اور ٹو جی کے بعد اب تھری جی جیسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی۔
اس وقت دنیا میں تھری جی سب سے جدید ٹیکنالوجی ہے۔ اس سے قبل 1جی یعنی فرسٹ جنریشن (Analog) اور2 جی یعنی سیکنڈ جنریشن(Digital) ٹیکنالوجیز موجود تھی۔ ڈیٹا ٹرانسفر اور وڈیو ٹرانسمیشن کے لئے سستی اور تیز رفتار سہولت کی ضرورت نےتھری جی کو جنم دیا۔ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین (ITU) نے 1980ء میں اس ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا جو تقریباً 15سال میں مکمل ہوا۔ آج یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کی حکومتوں اور کمیونی کیشن کمپنیوں اولین ترجیع کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔
سب سے پہلے تجارتی بنیادوں پر اس ٹیکنالوجی کا آغاز یکم اکتوبر 2001ء میں نیپن ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون نامی کمپنی نے جاپان میں کیا۔ اسی سال دسمبر میں یورپ نے اس جدید ایجاد کو شرف قبولیت بخشا۔ مئی 2002ء میں جنوبی کوریا میں اس ٹیکنالوجی کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور وہاں کمپنیوں کی طرف سے باقاعدہ مقابلے کی فضا قائم ہو گئی۔
جولائی 2002ء میں امریکہ اور جون 2003ء میں یہ تیزرفتار موبائل انٹرنیٹ سہولت آسٹریلیا پہنچ گئی جس کے بعد چین، بھارت، شام، عراق، ترکی، کینیڈا اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے تقریباً 130ممالک آج اس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک تھری جی سے بھی آگے فورجی کی طرف جا رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تاحال 2 جی نظام ہی رائج ہے۔یہ نطام چندسہولیات کےاضافے کے بعد 2.5جی ہو چکا ہے۔ پاکستان کا موجودہ سیلولر نظام GSM پر استوار ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کا دبائو بڑھنے سے انٹر نیٹ کی رفتار انتہائی سست ہوتی جارہی ہے۔ 2 جی ٹیکنالوجی 30 تا 90 کلو بائیٹس فی سکینڈ ڈیٹا ٹرانسفرکی رفتار مہیا کرتی ہیں اوریہ صرف چند ایک بنیادی سہولیات فراہم کر سکتی ہے جیسے کہ وائس کال، ایس ایم ایس، کانفرنس کال،کالر آئی ڈی وغیرہ جبکہ 2.5جی کے تحت ایم ایم ایس بھی بھیجیں جاسکتے ہیں، ویب برائوزنگ کر سکتے ہیں، چھوٹے موٹے آڈیو ویڈیو کلپ، گیمز، اور ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ 2 جی کے مقابلے میں 3جی نظام کے تحت ڈیٹا ٹرانسفر سپیڈ دو سے تین میگا بائیٹ فی سکینڈ تک پہنچ جاتی ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے نقل و حمل، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ممالک فور جی تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ بدقسمتی پاکستان میں تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کوسوں دور دکھائی دے رہی ہے۔ ہمارے ہاں 2009ء میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کی باتیں شروع ہوئیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال تھری جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کا عمل تک شروع نہیں ہو سکا۔
پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 13 کروڑلگ بھگ ہے جن میں سے 2کروڑ سے زائد صارفین موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے لئے موزوں موبائل فونز سیٹس، خاص طور پر چینی ساختہ سمارٹ فونز کی گرتی ہوئی قیمت موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔ آج پاکستان میں اسمارٹ فونز کی مقبولیت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں پاکستان کو ایشیاء کی پانچویں بڑی مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی کے آنے سے موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں 50سے 70 فیصد تک اضافہ ہوجائےگا۔
پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی کب تک آسکے گی؟اسکا انتظار ہرایک کوہے۔ آئی ٹی ماہرین پر امید ہیں کہ رواں سال کے آخر تک تھری جی لائیسنس کے بارے میں کوئی واضح پالیسی سامنے آجائے گی۔ اگرچہ لائیسنس نیلامی کے عمل بعد بھی اس ٹیکنالوجی کے اطلاق میں سال بھر مزید لگ سکتا ہے لیکن کوئی بعید نہیں کہ انٹر نیٹ کی طرح یہ ٹیکنالوجی بھی کسی بپھرے ہوئے سیلاب کی طرح پاکستان میں داخل ہوجائے اور تیزی سے مقبولیت کی منزلیں طے کرنا شروع کردے۔
ٹیکنالوجی
ڈرون طیارہ شمسی توانائی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل 5 سال تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے
امریکی کمپنی ٹائٹن ایروسپیس نے شمسی توانائی سے مسلسل 5 سال تک پرواز کرنے والا ڈرون طیارہ تیار کیا ہے۔ اس ڈرون طیارے میں 3 ہزار سولر پینلز نصب کئے گئے ہیں جو 7 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طیارہ بغیر کسی بیرونی ایندھن کے شمسی توانائی پر 65 ہزار فٹ کی بلندی پر 65 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی ذرائع کے مطابق یہ ڈرون طیارہ عسکری اور شہری دونوں مقاصد کے لئے یکساں مفید ہے۔ طیارے میں موسمیاتی اور مواصلاتی سینسرز بھی نصب کئے جائیں گے۔ طیارے کی تیاری پر 20 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے اور اسے اگلے سال نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ٹائتن ایروسپیس کے مطابق نمائش سے قبل ہی کمپنی کو 4 ڈرون طیاروں کے آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔
ٹیکنالوجی
ہواوے نے اپنا پہلا ڈوؤل سم سمارٹ فون G610 پاکستان میں فروخت کے لئے پیش کر دیاہے۔ پاکستان بھر ایئر لنک کی ایک سالہ وارنٹی کے ساتھ یہ سمارٹ فون 20 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں پاکستانی مارکیٹ میں سمارٹ فونز بزنس کا آغاز کرنے والی کمپنی ہواوے نے سال 2012 میں 5 سمارٹ فونز مارکیٹ میں پیش کئے تھے۔ رواں سال کے آغاز پردنیا کا سب سے پتلا فون ایسنڈ P6 کمپنی نے پاکستان میں متعارف کروایا۔ ساتھ ہی کم قیمت سمارٹ فونز بھی فروخت کے لئے پیش کئے۔
ہواوے G610، پانچ انچ کی حامل Capacitive ٹچ اسکرین، 1.2 گیگا ہرٹز پروسیسر، 1 جی بی ریم، 4 جی بی انٹرنل میموری، 5 میگا پکسل کیمرہ کا بیک کیمرہ، 0.3میگا پکسل کا فرنٹ کیمرہ، فلیش لائیٹ، WiFi، GPS، بلیوٹوتھ، اور مائیکروUSB کی سہولتوں سے مزین ہے۔ 170 گرام وزن کے ساتھ یہ فون سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہے۔ اس کی اسکرین ریزولوشن 540x960پکسلز ہے۔ اس سمارٹ فون میں اینڈرائیڈ 4.2 آپریٹنگ سسٹم دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی
امریکی حکومت نے 100 ڈالر کا نیا کرنسی نوٹ نئے ہائی ٹیک سیکورٹی فیچرز کے ساتھ جاری کیا ہے۔ حکام نے دعوی کیا ہے کہ اس نوٹ میں تھڑی ڈی سیکورٹی ربن کے علاوہ ایک ایسا لوگو موجود ہے جسکی نقل بنانا ناممکن ہے جبکہ روایتی واٹر مارک اور وہ دھاگہ بھی موجود ہے جو الٹرا وائلٹ روشنی میں گلابی رنگ میں چکمتا ہے۔
تھری ڈی ربن اس نوٹ پر چھاپا نہیں گیا بلکہ اسے نوٹ میں ہی بنا گیا ہے، اس ربن پر 100 کا ہندسہ درج ہے جو نوٹ کو اوپر نیچے یا دائیں بائیں کرنے پر ہلنے لگتا ہے۔
انٹرنیٹ روزنامے، دی نیوز ٹرائب کے مطابق دستاویزات اور نوٹوں کےلئے کاغذ تیار کرنے والی کمپنی فورٹریس پیپرز کے چیف ایگزیکٹو چیڈوک ویلسنوف کا کہنا ہے کہ سیکورٹی میں اضافے کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
نوٹ پربینجمن فرینکلن کی ابھری ہوئی تصویر چھاپی گئی ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس اور محکمہ خزانہ کے مشترکہ پروجیکٹ، 100 ڈالر کے اس نئے نوٹ پر تحقیق اور اسے بنانے میں تقریباً10سال کا عرصہ لگاہے۔ حکام کے مطابق ملک میں 100 ڈالر کے سب سے زیادہ جعلی نوٹ موجود ہیں۔
جدید سافٹ ویئرز، چھپائی اور نقل کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل مشینری کی وجہ سے جعلی کرنسی نوٹ چھاپنا آسان ہوگیا ہے۔ شہریوں اور عام دکانداروں کیلئے جعلی کرنسی نوٹوں کی شناخت نہایت مشکل ہے۔
ٹیکنالوجی
QMobile نے صارفین کے لئے اپنے سمارٹ فونز سیریز کے دو نئے ماڈلز جاری کئے ہیں۔ Noir A30 اور Noir A34 کے نام سے لانچ کئے گئے ان سمارٹ فونز کی قیمت بالترتیب 7,800 اور 7,500 روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں سمارٹ فونز 3.5 انچ کی اسکرین، دو سم کارڈز اور ڈوول کور پروسیسر کے حامل ہیں۔
Noir A30,ایک 256MB ریم کا حامل سمارٹ فون ہے جسکے ڈوول کور پروسیسر کی قسم تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انٹرنل میموری 512 ایم بی ہے۔ اس فون میں VGAفرنٹ کیمرا اور 2 میگا پکسل کا بیک کیمرا دیا گیا ہے۔ یہ سمارٹ فون بلیو ٹوتھ، مائیکرو یو ایس بی، وائی فائی اور جی پی ایس جیسی سہولیات سے لانچ کیا گیا ہے جبکہ اسکا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 4.2 جیلی بین ہے۔
اس کے مقابلے میں Noir A34 نستاًمعمولی تبدیلیوں کے ساتھ لانچ کیا گیا ہے۔ Noir A34 میں جی پی ایس کی سہولت موجود نہیں۔ باقی تمام فیچرز Noir A30 جیسی رکھی گئیں ہیں۔
ٹیکنالوجی
نوکیا نے اپنا نیا 4Gاسمارٹ فون لومیا 625 باضاطہ طور پرپاکستان میں متعارف کروادیاہے۔ Lumia 625 میں حال ہی میں متعارف کروائے گئے نوکیا لومیا 1020 کی بہت سی جدید خصوصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ’’نوکیا اسمارٹ کیمرا‘‘ جیسی کیمرا ایپلی کیشنز شامل ہے جو تصاویر میں سے غیر مطلوبہ اشیا کو حذف کرنے کے لیے آسان ٹولز مہیا کرتی ہیں۔ ساتھ ہی ’’نوکیا سنیماگراف‘‘ کی مدد سے ساکت تصویروں میں حرکت ڈال کر انھیں ویڈیوز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ نوکیا پاکستان کے کنٹری منیجر عارف شفیق کے مطابق یہ فون نوکیا اسمارٹ فونز کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی اسکرین کا حامل فون ہے۔
نوکیا کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی نار کے اشتراک سے پاکستان میں متعارف کئے گئے اس فون کو ٹیلی نار فرنچائز سے خریدنے پر صارفین 2 ماہ مفت انٹرنیٹ کی خصوصی آفر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 4.7 انچ کی اسکرین کا حامل اس اسمارٹ فون میں ڈوئل کور 1.2 گیگا ہرٹز کا پروسیر، 512MB ریم اور 8GB انٹرنل میموری شامل ہے۔ اس فون کا آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 8 ہے اس میں انٹرنیٹ ایکسپلورر10، ایکس بکس لائیو اور مائیکروسافٹ آفس کی سپورٹ موجود ہے۔
ٹیکنالوجی
ٹوکیو : HTC، موٹورولا اور سام سنگ کی جانب سے Mini سمارٹ فونز متعارف کروانے کے بعد اب سونی نے Xperia Mini Z1 متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔
کئی ماہ سے جاری افواہوں کے بعد Xperia Mini Z1 کی تصاویر اہم معلومات کے ساتھ انٹرنیٹ پرلیک ہوئی ہیں۔ Xperia بلاگ کے مطابق، اس اسمارٹ فون کو باضابطہ طور پرXperia Z1 F کا نام دیا جائے گا۔ ویب سائٹ کی جانب سے حاصل دستاویز میں کہا گیا ہے کہ Xperia Z1 F ایک بہیترین کیمرے اور کواڈ کور پروسیسر کا حامل ہوگا۔ iPhone 5C کی طرح یہ فون بھی مختلف رنگوں میں پیش کیا جائے گا۔
سونی Xperia Z1 F ایک 4.3 انچ 720p کا TRILUMINOSڈسپلے کا حامل ہوگا۔ جبکہ آپیریٹنگ سسٹم Android 4.2.2 جیلی بین ہوگا۔ اس سمارٹ فون میں 2.2Ghz کواڈ کور Qualcomm Snapdragon 800 پروسیسر اور 2 جی بی کی ریم ہوگی۔ سونی کے جانب سے اس سمارٹ فون میں 20.7 میگا پکسل، سونی G لینس کا حامل طاقتور پرائمری کیمرا اور 2.2 - میگا پکسل فرنٹ کیمرے توقع کی جارہی ہے .
انٹرنل سٹوریج کا اندازہ 16GB اور ایکسپنشن سلاٹ64GB کی گنجائش کی مائیکروایس ڈی ہوگی۔
فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سونی کب اسے مارکیٹ میں لانچ کرنے جارہا ہے۔ لیکن سمارٹ فونز بنانے والی دیگر کمپنیوں کی جانب سے نئے ماڈلز کی لانچنگ میں دیکھی گئی تیزی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ بہت جلد سونی یہ سمارٹ فونز صارفین کے لئے پیش کر دیگا۔
ٹیکنالوجی
موبائل فونز بنانے والی کمپنی نوکیا آئندہ ماہ اکتوبر میں اپنی سمارٹ فونز کی سیریز میں چھ نئی ڈیوائسز پیش کرنے جارہا ہے۔ توقع ہے کہ اسے آئندہ ماہ 22 اکتوبر کو ابو ظہبی میں ہونے والی نوکیا کی "انوویشن ری انونٹڈ" نامی تقریب میں پیش کردیا جائے گا۔
اگرچہ ان سمارٹ فونز کی پوری تفصیل سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اندازہ لگایا جارہا ہے کہ نوکیا، لومیا سمارٹ فون سیریز کا نیا فون، لومیا 1520، اس تقریب میں پیش کر سکتا ہےCNET کے مطابق لومیا 1520، 6انچ کی اسکرین کا حامل سمارٹ فون ہے۔ اسی طرح یہ افواہ بھی زیرِ گردش ہے کہ نوکیا، لومیا 2520 نامی ونڈوز آرٹی ٹیبلیٹ پی سی بھی اس تقریب میں پیش کریگا۔
ٹیکنالوجی
انٹیل نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنے ٹیکنالوجی پارٹنرز کے اشتراک سے پاکستان میں ایٹم پروسیسر کے حامل کم قیمت انڈرائیڈ اور ونڈوز ٹیبلیٹس متعارف کروائی گی۔ یہ ٹیبلیٹس پاکستان میں مقافی برانڈز کے ناموں سے فروخت کئے جائیں گے اور بہت جلد مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کر دئے جائینگے۔ ان ٹیبلیٹس میں انٹیل کے Medfield، Clover Trailاور Bay Trail پروسیسرز استعمال کئے جائینگے۔
چائینہ کے بنے اَن برانڈڈ ٹیبلیٹس کے مقابلے میں یہ ٹیبلیٹس عالمی معیار کے مطابق تیار کئے گئے ہیں۔ انٹیل ایٹم کے حامل یہ ٹیبلیٹس 7 انچ، 10 انچ اور 11 انچ ماڈلز میں دستیاب ہونگی اور اس کی انٹرنل میموری 16 جی بی ہوگی۔ انکی قیمت 13 ہزار روپے سے شروع ہوگی۔ چند مخصوص ماڈلز میں اینڈرائیڈ یا ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈوول بوٹ کا آپشن بھی دستیاب ہوگا۔

































