آمدورفت

محفوظات

Budaya

Wisata

Linear

Budaya

Daya

Kuliner

Liner

تبصرے

kota

Free hosting
    • Latest Stories

      What is new?

    • Comments

      What They says?

    ,


     کیا تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی دنیا میں نیا صنعتی انقلاب برپا کرنے والی ہے؟ 

    بچوں کو کھلونوں کا "کارخانہ" گھر میں ہی ملے گا۔
    نہایت قلیل عرصے میں دنیا نے تیزی سے ترقی کی ہے اور ہم ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ کمپیوٹرٹیکنالوجی میں ہونے والی شب و روز ترقی ایک جدید ٹیکنالوجی یعنی تھری ڈی پرنٹنگ تک پہنچ چکی ہے۔ تھری ڈی پرنٹنگ کیا ہے اور ہم اس سے کیا کام لے سکتے ہیں ؟اس بارےمیں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسا چھوٹا سا گھریلو کارخانہ ہے جس کی مدد سے آپ کوئی بھی چیز تیار کر سکتیں ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین اسے انٹرنیٹ سے بھی بڑی ایجاد تصور کرتے ہیں۔ 

    تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے کم وزن اور پائیدار  مصنوعی جسمانی اعضاء بنائے جاسکتے ہیں۔ 


    آج پرنٹرایک اہم ضرورت بن چکا ہے اور تقریباً ہر کمپیوٹر سے ایک پرنٹر منسلک ہے جو ہماری لکھی ہوئی تحریر کاغذ پر چھاپنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسا پرنٹر ہو جو آپ کے کمپیوٹرمیں کسی تین جہتی( تھری ڈی) ماڈل کو حقیقت کا روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔جس کے ذریعے آپ اپنے بچوں کے لئے نت نئے کھلونے، کسی بحری جہاز، ہوائی جہاز، کاراور دیگر آٹوموبائلز کے ماڈلز، اپنے موبائل اور روز مرہ کے استعمال کی دیگر اشیاء خود تیار کر سکیں گے۔ یہ باتیں کسی سائنس فکشن ناول یا سٹارٹریک طرز کی سائنسی فلم کی لگتیں ہیں لیکن تھری پرنٹر ز ایک حقیقت بننے والی ایسی مشین ہے جو کسی بھی چیز کو مطلوبہ سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انجینئرز اور ڈیزائنر زگزشتہ کئی سالوں سے تھری ڈی پرنٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ استعمال محدود پیمانے پر تھا اور صرف عملی تجربے سے قبل آگاہی کے لیے کیا جاتا تھا، آج تھری ڈی پرنٹرزکی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 

    تھری ڈی پرنٹڈ جوتے
    تھری ڈی پرنٹرز پلاسٹک سمیت مختلف دھاتوں کوآپ کے ڈیزائن کردہ ماڈل میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ اس کے ذریعے اپنے لئے کار بھی بنا سکتے ہیں۔ جی ہاں! اور ایسا ہوا ہے۔ "یوربی۔ٹو" کے ماہر ڈیزائنر جم کور نے اپنے لئے پلاسٹک کی کار تیار کی ہے۔ اس کار کا پلاسٹک اسٹیل جیسا ہی مضبوط ہے اور وزن بھی نہایت ہی کم ہے۔ تین پہیوں کی کار کا کل وزن صرف 544 کلو گرام ہے۔ جم کور کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی اسے ایک عام کار سے بھی زیادہ مضبوط کار بنا دیں گے۔

    یوربی 2، تھری ڈی پرنٹنگ کار
    اس جدید ٹیکنالوجی کاتجرباتی استعمال ان گنت میدانوں کیا جارہا ہے۔شعبہ طب میں اس کے تجرباتی استعمال میں دانتوں کے کراؤن ، مصنوعی ہڈیاں اور جوڑ تیار کیے گئے ہیں۔جاپان میں اس کے ذریعے انسانی کلون بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔مستقبل میں تھری ڈی پرنٹنگ زیورات اور آرکیٹکچر جیسے شعبوں میں استعمال ہونے لگے گی۔


    یہ ٹیکنالوجی صرف کھلونوں، کاروں اور دیگر چیزوں کی حد تک محدود نہیں ہوگی بلکہ آپ اس کے ذریعے اپنے من پسند کھانے بھی "پرنٹ" کرسکیں گے۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے تھری ڈی پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانوں سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

     اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔

    تھری ڈی پرنٹڈ پیزا

    اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے کسی مخصوص چیز کے لئے اس کے تیار کنندہ کی اجارہ داری کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائیگا۔ خریدار کو اصل تیارکنندہ سے کچھ خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ اپنی مرضی کے کھلونے، برتن ، جوتے، موبائل فون کورز وغیرہ گھر بیٹھے خودتیار کر سکیں گے۔ایک جانب تو یہ ایک سہولت ہوگی لیکن دوسری جانب مصنوعات کی تیاری کے لیے کارخانوں اور مزدوروں کی ضرورت کم ہوجائے گی جو بہرحال عالمی بیروزگاری کا باعث ثابت ہوگی۔ 

    اس معزور بچی کے ہاتھوں کو تھری ڈی پرنٹر سے بنے کم وزن ایکسو اسکیلیٹن کی مدد سے کار آمد بنایا گیا ہے۔ 
    ٹیکنالوجی جہاں سہولیات اور آسائشیں بہم پہنچاتی ہیں وہیں کچھ لوگ انہیں منفی مقاصد کے لئے استعمال کر نا شروع کر دیتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک خبر سنی کہ امریکہ میں بندوقوں کے تھری ڈی پرنٹ ایبل ماڈلز پرپابندی لگا دی گئی ہے اور انٹرنیٹ سے ایسی تمام اسلحے کے تھری ڈی ماڈلز ہٹائے جا رہے ہیں۔ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ نے ایک مشین گن ،تھر ڈی پرنٹر کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس گروپ نے مشین گن کو تیار کرنے کے لیے ایک سال تک کوشش کی جس کا جنوبی آسٹن کے ٹیکساس شہر کے ایک فائرنگ رینج میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا۔ اس ٹیسٹ فائر کی وڈیو نے انٹرنٹ پر جاری ہوتے ہی تہلکہ مچادیا ہے۔ دنیا میں پہلی بار کسی پرنٹر سے "شائع شدہ" گن سے فائر کیا گیا ہے۔ ڈیفنس ڈسٹریبیوٹڈ نامی متنازعہ گروپ جس نے یہ بندوق تیار کی ہے وہ انٹر نیٹ پر دستیاب بلو پرنٹ کے ذریعے مزید اسلحہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔


    یورپ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یوروپول کے سائبر کرائم سنٹر نے کہا ہے کہ "موجودہ مجرم ہتھیار خریدنے کے روایتی ذرائع پر ہی زیادہ انحصار کریں گے۔وقت کے ساتھ جب یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے لیے زیادہ آسان اور سستی ہو جائے گی تو ایسے میں ممکن ہے کہ اس کے خطرے بڑھ جائيں۔"اس پرنٹر سے تیار کیے گئے خودکار ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ اس طرح تیار ہونے والا اسلحہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل ہی میں ہے اور اصل سے مہنگا پڑتا ہےلیکن یہ انسانی تباہی کا یک نیا باب کھول دے گا۔ لوگ اپنی مرضی سے، بغیر قانونی مراحل سے گزرے خطرناک اسلحہ گھر بیٹھے بنائینگے اور جہاں مرضی استعمال کریں گے۔ پلاسٹک کا ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے میٹل ڈیٹیکٹرز اور ویپن اسکینرز اس اسلحے کا کھوج نکالنے میں ناکام رہینگے۔

    ان پرنٹرز کا دوسرا شدید خطرہ ماحولیاتی ہے۔صنعتی انقلاب نے اس سیارے کو طرح طرح کی زہریلی گیسوں اور کثافتوں سے بھر دیا ہے۔ صنعتی فُضلے کو ٹھکانے لگانا بجائے خود ایک لاینحل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں اگر صارفین کے ہاتھ ایسے پرنٹر لگ جائیں جو، ان کی مرضی کے موافق انھیں چیزیں بنا بنا کر دیے چلے جائیں تو اندازہ کیجیے کہ آلودگیاں، صنعتی فضلہ اور شہری کچرا مزید کتنا بڑھ جائے گااس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

    ,


    انٹرنیٹ کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندازہ ایسے ہوا کہ ایک تحقیق کے مطابق 2013کاسب سے مقبول ترین لفظ 404ایرر کوڈ ہے۔

    امریکی ادارے گلوبل لینگوئج مانیٹر کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق موجودہ سا ل میں مشہور ترین انگریزی لفط انٹر نیٹ کا ایرر کوڈ 404ثابت ہوا ہے، دوسرے نمبر پر موجود ہے ، فیل، جسکی وجہ شاید 4 Chanگیم کا زیادہ استعمال لگتا ہے۔

    سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر بھی انٹر نیٹ سے متعلقہ لفظ موجود ہیں، یعنی' ہیش ٹیگ' اور ٹویٹر کا ' Pontifex '۔




    ,

    پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی نے ڈیزائن اور تیار کیا۔

    لاگت 35 لاکھ روپے آئی۔  زمین کے نچلے قطبی مدار کیساتھ 600کلومیٹر کی بلندی پر خلائی تحقیق کیلئے کام کریگا

    پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹلائٹ آئی کیوب-1، ڈنیپر نامی راکٹ کے ذریعے روس کے لانچ بیس یاسنے سے لانچ کردیا گیا۔آئی کیوب-1جسے انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی پاکستان نے تیار کیا، کے ڈیزائن اور تیاری پر تقریباً 35 لاکھ روپے لاگت آئی ہے ۔ واضح رہے کہ کیوب سیٹ انتہائی مختصر سائز کا ایک سیٹلائٹ ہوتا ہے ، جسے خلائی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر اس کا حجم ایک لیٹر (دس مربع سینٹی میٹر) اور اس کا وزن ایک کلو 33گرام سے زیادہ نہیں ہوتا۔اس کیوب سیٹ سیٹلائٹ سے مستقبل کے تجربات کے لیے ایک وسیع سلسلے کا آغاز ہوسکے گا، اس کیوب سیٹ کی کارکردگی کا دائرہ امیجنگ، مائیکرو گریویٹی، بائیولوجی، نینو ٹیکنالوجی، سپیس ڈائنامکس، کیمسٹری، سپیس فزکس اور دیگر مختلف شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔


    یہ کیوب سیٹ بہت سے سیٹلائٹ کی تیاری میں کام آنے والے مخصوص پروگراموں کے لیے ایک بنیاد بھی فراہم کرے گا۔بیس فیکلٹی ممبرز اور پندرہ طالبعلموں پر مشتمل ایک ٹیم نے اس پراجیکٹ پر 2009ء میں کام کا آغاز کیا تھا۔آئی کیوب-1 کے بارے میں توقع ہے کہ یہ دو سال کے عرصے تک کام کرتا رہے گا۔ یہ زمین کے نچلے قطبی مدار کے ساتھ چھ سو کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے ۔پاکستانی کیوب سیٹ ہو بہو بڑے سیٹلائٹ کی ہی طرح ہے تاہم اسے سٹوڈنٹ سیٹلائٹ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ کم خرچ اور کم وقت میں جدید ٹیکنالوجی سیکھنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے ۔


    برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔ بی بی سی لے مطابق برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔

    منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔

    بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔ ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں.

    نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔


    پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔


    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔


    سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔

    ,


    لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ہے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔

    لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ہے۔زمانہ بہت برا آ گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ہے جبکہ میں زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہ ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھیجتے۔ تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ہیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔ایسا لگتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔

    ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ہزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کے احوال سے اکثر نابلد رہتے ہیں۔ لیکن سماجی روابط پر موجود دوستوں کی تمام ایکٹیویٹیز سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک دوست کا فیس بک پر اسٹیٹس پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ:
    آج سارا دن بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے سوشل نیٹ ورکس کو استعمال نہ کرپایا تو سوچا کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں۔ آج پتہ چلا، اچھے لوگ ہیں۔
    ٹیکنالوجی کا استعمال بہت اچھی بات ہے خاص کر سوشل نیٹ ورکس نے تو سماجیات کے شعبے میں انقلاب برپا کردیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ورچوئل سوشل نیٹ ورکس کے ساتھ اپنے آس پاس کے سماجی روابط اور رشتوں کو بھی مضبوط بنائیں۔
    (مصنفہ: عدیبہ راجہ - قلم کاروان)




    نوکیا کی جانب سے صارفین کے لئے چھ نئی ڈیوائسز کل 22 اکتوبر کو متعارف کروائی جارہی ہے۔ نوکیا ،کل ابو ظہبی میں نوکیا ورلڈ نامی ایک تقریب کا انعقاد کرنے جارہا ہے جس میں ان ڈیوائسز کی رونمائی کی جائے گی۔ مائیکروسافٹ اور نوکیا کے درمیان ہونے والی حالیہ اشتراک کے بعد نوکیا کی یہ تقریب خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ نوکیا کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر سٹیفن ایلوپ ، مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے اس تقریب کی میزبانی کریں گے۔
    انٹرنیٹ پر جاری خبروں کے مطابق نوکیااس تقریب میں پہلی ونڈوز آر ٹی ٹیبلیٹ لومیا 2520 اور 6 انچ سکرین کا حامل نیا سمارٹ فون لومیا 1520 فیبلیٹ متعارف کروائےگا۔ ساتھ ہی ساتھ نوکیا دیگرچار نئے گیجٹس بھی متعارف کروائے گا۔ 
    نئی ٹیکنالوجی، سمارٹ فون اور ٹبلیٹس کے حوالے سے خبریں لیک کرنے والے ایک مستند نام evleaks نے آج ٹویٹر پر Moroleaks حوالے سے آئی پوڈ شفل سے ملتی جلتی ایک میوزک ڈیوائس کی تصویر لیک کی ہے۔ اس ڈیوائس میں بلیوٹوتھ اور این ایف سی موجود ہے تاہم اس کے بارے میں مزید کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    پاکستانی وقت کے مطابق کل دوپہر 12 بجے یہ تقریب ابو ظہبی میں شروع ہوگی۔ انٹرنیٹ پر یہ تقریب براہ راست conversations.nokia.com پر دیکھی جاسکتی ہے۔ نوکیا کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ شاید کمپنی عنقریب موبائل اور ٹیبلیٹس کے بعد لیپ ٹاپ بھی متعارف کروائے۔

⬆
Top